دوستو، کبھی سوچا ہے کہ کچھ لوگ محض اپنی شخصیت سے تاریخ کا دھارا کیسے موڑ دیتے ہیں؟ آج میں آپ کو ایک ایسی ہی شخصیت کے بارے میں بتانے والا ہوں، جن کا نام سنتے ہی دل میں ایک عزم اور امید کی لہر دوڑ جاتی ہے: مہاتما گاندھی۔ ان کی زندگی، ان کا فلسفہ، اور برصغیر کی آزادی کے لیے ان کی ان تھک جدوجہد صرف کتابوں کی باتیں نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی مثال ہے کہ کیسے ایک اکیلا شخص بھی سچائی اور عدم تشدد کے بل بوتے پر عظیم سلطنتوں کو جھکا سکتا ہے۔ میں نے جب ان کی کہانی کو گہرائی سے جانا تو حیران رہ گیا کہ ان کی حکمت عملی آج بھی ہمیں کتنے سبق سکھاتی ہے۔ ان کی تحریک نے کیسے لاکھوں دلوں میں آزادی کی شمع روشن کی اور پوری دنیا کو متاثر کیا، یہ سمجھنا آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔ آئیے، اس عظیم سفر کے ہر دلچسپ پہلو کو ایک ساتھ دریافت کرتے ہیں!
دوستو، مہاتما گاندھی کی شخصیت کو سمجھنا آج بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اس دور میں تھا جب وہ اپنی تحریکوں سے ہندوستان کے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں آزادی کی شمع جلا رہے تھے۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے جیسے ان کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے، جس کے ہر صفحے پر ہمارے لیے کوئی نہ کوئی سبق پوشیدہ ہے۔ میں نے جب ان کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تو ایک الگ ہی دنیا میں گم ہو گیا، ایک ایسی دنیا جہاں سچائی اور عدم تشدد سب سے بڑے ہتھیار تھے۔ یہ صرف تاریخ کی بات نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو آج بھی ہمیں اپنے مسائل حل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ان کی جدوجہد نے مجھے سکھایا کہ اگر آپ کسی مقصد کے لیے سچے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو روک نہیں سکتی۔ آئیے، گاندھی جی کے اس عظیم سفر کے چند ایسے دلچسپ پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے میرے دل کو چھو لیا۔
انسان سازی کا ابتدائی سفر: گاندھی جی کی جوانی کے رنگ

ہم اکثر گاندھی جی کو ایک بوڑھے، کمزور سے شخص کے روپ میں دیکھتے ہیں جنہوں نے دھوتی پہنی ہوئی ہوتی تھی، لیکن ان کی جوانی بھی ہماری طرح خوابوں اور چیلنجوں سے بھری ہوئی تھی۔ گجرات کے پوربندر میں ایک عام سے گھر میں پیدا ہونے والے موہن داس کرم چند گاندھی کو شاید خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ آگے چل کر تاریخ کا دھارا موڑ دیں گے۔ میں نے جب ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں پڑھا تو مجھے سمجھ آیا کہ کیسے چھوٹے چھوٹے واقعات انسان کی شخصیت کو تراشتے ہیں۔ لندن میں قانون کی تعلیم حاصل کرنا ان کے لیے ایک بہت بڑا قدم تھا، جہاں انہوں نے صرف کتابی علم ہی حاصل نہیں کیا بلکہ مغربی دنیا کو بھی قریب سے دیکھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ان کی شخصیت کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ ایک سادہ گھرانے کے بچے کا اتنی بڑی دنیا میں جا کر خود کو سنبھالنا، نئی چیزیں سیکھنا اور اپنے اصولوں پر قائم رہنا، یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ دیکھ کر مجھے خود بھی اپنی زندگی کے فیصلوں پر غور کرنے کا موقع ملا کہ کیسے ہمارے چھوٹے چھوٹے انتخاب بھی ہماری منزل کو متعین کرتے ہیں۔
ماں کا اثر اور اخلاقی تربیت
گاندھی جی کی والدہ پُتلی بائی ایک انتہائی مذہبی اور بااصول خاتون تھیں اور ان کا اثر گاندھی جی کی زندگی پر بہت گہرا رہا۔ ان کی ماں نے انہیں سچائی، عدم تشدد اور سادہ زندگی کے وہ بنیادی اصول سکھائے جو ساری عمر ان کے ساتھ رہے۔ گاندھی جی خود بھی اپنی آپ بیتی میں اپنی والدہ کے کردار کو کئی بار سراہتے ہیں۔ یہ واقعی حیران کن ہے کہ کس طرح ایک ماں کی تربیت صدیوں تک اثر انداز رہتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی اخلاقی بنیاد اتنی مضبوط تھی کہ بڑے بڑے طوفان بھی اسے ہلا نہیں سکے۔ ان کی والدہ نے انہیں دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے اور ان کی مدد کرنے کی ترغیب دی، جو بعد میں ان کی سیاسی اور سماجی زندگی کا بنیادی محور بن گیا۔ یہ وہی سبق ہے جو آج بھی ہمیں اپنے بچوں کو سکھانا چاہیے، کیونکہ مضبوط اخلاقی اقدار ہی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں۔
لندن میں تعلیم اور نظریات کی پرورش
لندن میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران گاندھی جی کو مختلف ثقافتوں اور نظریات سے واسطہ پڑا۔ انہوں نے نہ صرف قانون کا گہرا مطالعہ کیا بلکہ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل پر بھی غور و فکر کیا۔ سبزی خوری کے حوالے سے ان کی دلچسپی بھی اسی دور میں پروان چڑھی، اور انہوں نے اس پر کئی مقالے بھی لکھے۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ وہ صرف ایک طالب علم نہیں تھے بلکہ ایک گہرا مشاہدہ کرنے والے انسان تھے۔ یہ تجربات ان کے اندر ایک انقلابی سوچ پیدا کر رہے تھے، جو انہیں آگے چل کر برصغیر کی تقدیر بدلنے میں مددگار ثابت ہوئی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سب ان کی قسمت کا حصہ تھا، جو انہیں ایک بڑے مقصد کے لیے تیار کر رہا تھا۔
جنوبی افریقہ: ستیہ گرہ کی بنیاد اور تبدیلی کی داستان
کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ ایک عام سا وکیل جنوبی افریقہ کی سرزمین پر ایک ایسے فلسفے کو جنم دے گا جو پوری دنیا کو بدل دے گا – اور وہ تھا ستیہ گرہ۔ جب گاندھی جی 1893 میں ایک قانونی نمائندے کے طور پر جنوبی افریقہ پہنچے تو ان کی عمر صرف 24 سال تھی۔ وہاں انہیں رنگ و نسل کی بنیاد پر شدید تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک واقعہ جو ان کی زندگی کا سب سے اہم موڑ ثابت ہوا، وہ تھا پیٹرمارٹزبرگ میں ٹرین سے دھکے دے کر اتارا جانا، حالانکہ ان کے پاس درست ٹکٹ تھا۔ مجھے تو یہ سوچ کر بھی غصہ آتا ہے کہ کیسے انسانوں کے ساتھ صرف ان کے رنگ کی وجہ سے ایسا سلوک کیا جاتا تھا۔ لیکن گاندھی جی نے اس ناانصافی کو اپنے اندر غصہ بننے نہیں دیا، بلکہ اسے تبدیلی کی طاقت میں بدل دیا۔ اسی تجربے نے انہیں ستیہ گرہ کے اصول کو عملی جامہ پہنانے پر مجبور کیا، جس کا مطلب ہے سچائی اور عدم تشدد کے ساتھ ناانصافی کے خلاف ڈٹے رہنا۔
نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد
جنوبی افریقہ میں گاندھی جی نے ہندوستانی باشندوں کے شہری حقوق کے لیے ایک لمبی اور مشکل جدوجہد کا آغاز کیا۔ انہوں نے وہاں رہنے والے ہندوستانیوں کو منظم کیا اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ یہ صرف احتجاج نہیں تھا، بلکہ ایک اخلاقی جنگ تھی جو انہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف لڑی۔ ان کی تحریک میں ہزاروں ہندوستانیوں کو جیل میں ڈالا گیا، کوڑے برسائے گئے اور یہاں تک کہ گولیوں کا نشانہ بھی بنایا گیا، لیکن وہ اپنے عدم تشدد کے اصول پر قائم رہے۔ مجھے تو یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ اتنی مشکلات کے باوجود کوئی کیسے ثابت قدم رہ سکتا ہے۔ یہ ان کی ثابت قدمی اور یقین ہی تھا کہ بالآخر جنوبی افریقہ کی حکومت کو ان کے مطالبات ماننے پڑے۔ یہ گاندھی جی کی پہلی بڑی سیاسی کامیابی تھی، جس نے انہیں ایک عالمی رہنما کے طور پر متعارف کروایا۔ یہیں سے دنیا نے سیکھا کہ عدم تشدد بھی ایک بہت بڑا ہتھیار ہو سکتا ہے۔
ستیگرہ کا فلسفہ اور اس کے اثرات
ستیگرہ، جس کا مطلب “سچ کے لیے اڑنا” ہے، گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد اور عوامی مزاحمت دونوں کو شامل کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی مہم تھی جس میں سچائی اور استقامت کے ساتھ ظلم کے خلاف ڈٹے رہنا تھا۔ انہوں نے اس فلسفے کو نہ صرف جنوبی افریقہ میں اپنایا بلکہ بعد میں برصغیر کی آزادی کی تحریک میں بھی اسے اپنا مرکزی ہتھیار بنایا۔ اس فلسفے نے دنیا بھر میں نیلسن منڈیلا اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر جیسے عظیم رہنماؤں کو متاثر کیا۔ میرے خیال میں یہ صرف ایک سیاسی حکمت عملی نہیں تھی بلکہ ایک روحانی اور اخلاقی پیغام تھا جو گاندھی جی نے دنیا کو دیا۔ انہوں نے دکھایا کہ تشدد کے بغیر بھی بڑی سے بڑی طاقت کو جھکایا جا سکتا ہے۔ آج بھی جب میں ستیہ گرہ کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے اندر ایک امید کی کرن جاگ اٹھتی ہے کہ ہم بھی اپنے مسائل کو پرامن طریقے سے حل کر سکتے ہیں۔
ہندوستان واپسی: آزادی کی شمع کا روشن سفر
جب گاندھی جی 1915 میں جنوبی افریقہ سے ہندوستان واپس آئے تو رابندر ناتھ ٹیگور نے انہیں “ایک بھکاری کے لباس میں ایک عظیم روح” قرار دیا۔ مجھے یہ سن کر احساس ہوتا ہے کہ لوگ ان کی شخصیت میں ایک غیر معمولی طاقت دیکھ چکے تھے۔ ہندوستان واپسی کے بعد انہوں نے پورے ملک کا دورہ کیا تاکہ لوگوں کے حالات کو سمجھ سکیں۔ برطانوی حکومت کے تحت غربت اور بدسلوکی نے انہیں گہرا صدمہ پہنچایا۔ اسی وقت انہیں یہ یقین ہو گیا کہ برصغیر کو آزادی دلانا ان کی زندگی کا مقصد ہے۔ انہوں نے سابرمتی آشرم قائم کیا، جو ان کی جدوجہد کا مرکز بن گیا۔ یہ وہ دور تھا جب انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت سنبھالی اور اسے ایک عوامی تحریک میں بدل دیا۔ پہلے کانگریس امیر ہندوستانیوں کا ایک گروہ ہوا کرتی تھی، لیکن گاندھی جی نے اسے عام لوگوں کی پارٹی بنا دیا۔ یہ ان کی لیڈرشپ ہی تھی جس نے ایک تقسیم شدہ معاشرے کو آزادی کے ایک مقصد کے تحت متحد کر دیا۔
چنپارن ستیہ گرہ: پہلی کامیابی کی سیڑھی
ہندوستان میں گاندھی جی کی پہلی سول نافرمانی کی تحریک 1917 میں چمپارن ستیہ گرہ تھی۔ بہار کے چمپارن ضلع میں کسانوں پر نیل کی کاشت کے حوالے سے جو ظلم ہو رہا تھا، گاندھی جی نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ یہ کسانوں کی ایک بغاوت تھی، اور گاندھی جی نے ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ انہوں نے کیسے ایک چھوٹے سے علاقے کے کسانوں کے مسئلے کو اتنا بڑا بنا دیا کہ برطانوی حکومت کو جھکنا پڑا۔ اس تحریک کی کامیابی نے ثابت کیا کہ عدم تشدد اور ستیہ گرہ کے اصول ہندوستان میں بھی کام کر سکتے ہیں۔ یہ گاندھی جی کی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا جس نے انہیں برصغیر کی سیاست میں ایک مضبوط قدم جمانے میں مدد دی۔
تحریک عدم تعاون اور عوامی بیداری
1920 میں گاندھی جی نے تحریک عدم تعاون کا آغاز کیا، جس کا مقصد برطانوی حکومت سے عدم تعاون کرکے انہیں برصغیر چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا۔ اس تحریک میں ہندوستانیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ برطانوی اداروں، اسکولوں، عدالتوں اور مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ یہ ایک بہت بڑی عوامی تحریک تھی جس نے لاکھوں لوگوں کو آزادی کی جدوجہد میں شامل کیا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا وقت تھا جب لوگ پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر ایک ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ گاندھی جی نے لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ ان کی اپنی طاقت کتنی عظیم ہے۔ اس تحریک نے ملک بھر میں ایک نئی روح پھونک دی اور لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے لڑنے کی ترغیب دی۔ یہ صرف ایک سیاسی تحریک نہیں تھی بلکہ ایک سماجی اور فکری انقلاب تھا جس نے لوگوں کے سوچنے کے انداز کو بدل دیا۔
عدم تشدد کا ہتھیار: دنیا کو متاثر کرنے والا پیغام
گاندھی جی کا سب سے بڑا ہتھیار عدم تشدد تھا، جسے انہوں نے نہ صرف ایک فلسفہ کے طور پر پیش کیا بلکہ اپنی زندگی میں اس پر مکمل عمل بھی کیا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سچائی اور محبت کی طاقت کسی بھی جسمانی طاقت سے زیادہ ہوتی ہے۔ مجھے تو یہ بات آج بھی بہت گہرائی سے چھو جاتی ہے کہ ایک شخص کیسے بغیر ہتھیار اٹھائے دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کو چیلنج کر سکتا ہے۔ گاندھی جی کے نزدیک عدم تشدد صرف یہ نہیں تھا کہ کسی کو نقصان نہ پہنچایا جائے، بلکہ یہ نفرت، بغض اور تعصب سے بھی پاک رہنا تھا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں اس اصول کو اپنائے رکھا، اور اسی کی بدولت ہندوستان نے آزادی حاصل کی۔ ان کا یہ پیغام آج بھی دنیا بھر میں امن اور انصاف کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔
سچائی کی طاقت: ستیاگرہ کا جوہر
گاندھی جی کے فلسفہ کا ایک اہم ستون سچائی (ستیہ) تھا اور ستیہ گرہ اسی سچائی پر مبنی تھا۔ ان کے نزدیک سچائی صرف لفظی نہیں تھی بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں دیانت داری اور خلوص کا نام تھی۔ انہوں نے اپنی تحریکوں میں کبھی جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا نہیں لیا اور ہمیشہ اپنے مخالفین کا احترام کیا۔ مجھے یہ بات بہت پسند آئی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کو کسی طاقت کی ضرورت نہیں ہے۔ سچائی خود ہی ایک طاقت ہوتی ہے۔ یہ ان کی ایسی تعلیم تھی جو آج کے دور میں، جب ہر طرف جھوٹ اور فریب کا دور دورہ ہے، پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ستیہ گرہ کا مطلب یہ تھا کہ ناانصافی کے خلاف سچائی کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہنا، چاہے اس کے لیے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔
محبت اور بھائی چارے کا پیغام
گاندھی جی صرف سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ وہ انسانیت اور محبت کے علمبردار تھے۔ انہوں نے ہمیشہ قومی اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیا۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کیسے انہوں نے ایک ایسے ملک میں، جہاں مختلف مذاہب اور ذات پات کے لوگ رہتے تھے، سب کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ہر شخص کو دوسرے مذاہب کا اتنا ہی احترام کرنا چاہیے جتنا وہ اپنے مذہب کا کرتا ہے۔ گاندھی جی کی زندگی اور تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ کسی بھی شخص کے خلاف کوئی برائی یا دشمنی کا جذبہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ آج بھی اتنا ہی اہم پیغام ہے جتنا اس وقت تھا، جب وہ برصغیر کو تقسیم سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کی محبت کا پیغام آج بھی ہمارے دلوں میں ایک نئی امید پیدا کرتا ہے۔
آزادی کی جانب فیصلہ کن قدم: اہم تحریکیں

گاندھی جی نے برصغیر کی آزادی کے لیے کئی بڑی تحریکیں چلائیں، جنہوں نے انگریزوں کی بنیادیں ہلا دیں۔ یہ صرف ایک یا دو تحریکیں نہیں تھیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد تھی جس میں انہوں نے اپنی پوری زندگی لگا دی۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی ہر تحریک ایک ماسٹر اسٹروک کی طرح تھی جو صحیح وقت پر کھیلی گئی اور اس نے لاکھوں لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑ لیا۔ ان تحریکوں نے نہ صرف برطانوی حکومت کو کمزور کیا بلکہ ہندوستانیوں کو یہ احساس بھی دلایا کہ وہ بھی اپنی قسمت کے مالک بن سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسے شخص نے کیا جس کے پاس کوئی فوجی طاقت نہیں تھی، صرف سچائی، عدم تشدد اور عوامی حمایت کا ہتھیار تھا۔
نمک مارچ: مزاحمت کی منفرد مثال
1930 میں گاندھی جی نے نمک مارچ (دانڈی مارچ) کی قیادت کی، جو برطانوی نمک ٹیکس کے خلاف ایک مشہور ستیہ گرہ تھی۔ یہ 400 کلومیٹر کا پیدل سفر تھا جو سابرمتی آشرم سے دانڈی تک کیا گیا۔ مجھے تو یہ سن کر ہی تھکن ہونے لگتی ہے کہ اتنے بزرگ شخص نے کیسے اتنی لمبی مسافت طے کی ہوگی۔ اس مارچ میں ہزاروں لوگ ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور برطانوی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود نمک بنایا۔ یہ ایک علامتی احتجاج تھا لیکن اس نے پوری دنیا میں برطانوی سامراج کی ظالمانہ پالیسیوں کو بے نقاب کیا۔ نمک مارچ نے برصغیر کے ہر گھر میں آزادی کی تڑپ پیدا کر دی اور لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کی ترغیب دی۔ یہ گاندھی جی کی ایک ایسی حکمت عملی تھی جس نے دکھایا کہ چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ بھی بڑی تحریک کا باعث بن سکتا ہے۔
بھارت چھوڑو تحریک: آزادی کا آخری مطالبہ
1942 میں گاندھی جی نے “بھارت چھوڑو” تحریک کا آغاز کیا، جس میں برطانویوں سے فوری آزادی کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ ان کی سب سے بڑی اور سب سے فیصلہ کن تحریک تھی، جس میں انہوں نے “کرو یا مرو” کا نعرہ دیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اس نعرے نے پورے ملک میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ہزاروں لوگ گرفتار ہوئے، اور گاندھی جی کو بھی کئی سال جیل میں گزارنے پڑے۔ لیکن اس تحریک نے یہ واضح کر دیا کہ ہندوستانی اب آزادی سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے۔ یہ تحریک برطانوی راج کے لیے تابوت کی آخری کیل ثابت ہوئی اور بالآخر 1947 میں ہندوستان آزاد ہو گیا۔ مجھے تو یہ سوچ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کیسے ایک شخص نے اتنی بڑی سلطنت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
یہاں گاندھی جی کی زندگی کے چند اہم لمحات اور ان کی خدمات کا ایک مختصر جائزہ دیا گیا ہے:
| سال | واقعہ/خدمت | اثرات و اہمیت |
|---|---|---|
| 1869 | موہن داس کرم چند گاندھی کی پیدائش | ایک عام سے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ جو بعد میں تاریخ ساز بنا۔ |
| 1893 | جنوبی افریقہ روانگی اور ٹرین کا واقعہ | نسلی امتیاز کا سامنا، ستیہ گرہ کے فلسفہ کی بنیاد۔ |
| 1906-1914 | جنوبی افریقہ میں ستیہ گرہ کی تحریک | عدم تشدد پر مبنی سول نافرمانی کی پہلی بڑی کامیابی۔ |
| 1915 | ہندوستان واپسی | آزادی کی جدوجہد کی قیادت سنبھالنے کی تیاری۔ |
| 1917 | چمپارن ستیہ گرہ | ہندوستان میں پہلی کامیاب عدم تشدد کی تحریک۔ |
| 1920-1922 | تحریک عدم تعاون | قومی سطح پر عوامی بیداری اور برطانوی حکومت کو چیلنج۔ |
| 1930 | نمک مارچ (دانڈی مارچ) | برطانوی نمک قوانین کے خلاف علامتی اور مؤثر احتجاج۔ |
| 1942 | بھارت چھوڑو تحریک | برطانوی راج کے خاتمے کا آخری اور فیصلہ کن مطالبہ۔ |
| 1947 | ہندوستان کی آزادی | گاندھی جی کی جدوجہد کا نتیجہ، اگرچہ ملک کی تقسیم کے ساتھ۔ |
| 1948 | گاندھی جی کا قتل | عدم تشدد کے پیامبر کا افسوسناک انجام۔ |
گاندھی جی کی میراث: آج بھی کیوں اہم ہے؟
گاندھی جی کی شخصیت اور ان کے نظریات آج بھی پوری دنیا میں اتنے ہی متعلقہ ہیں جتنے ان کی زندگی میں تھے۔ ان کی میراث صرف ہندوستان کی آزادی تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانیت کے لیے ایک عالمی پیغام ہے۔ مجھے یہ بات دل سے لگتی ہے کہ ایک شخص کیسے اپنی زندگی کو اس طرح سے جی سکتا ہے کہ اس کا اثر صدیوں تک رہے۔ ان کے اصولوں کو آج بھی کئی سماجی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب میں آج کی دنیا میں بڑھتے ہوئے تشدد، نفرت اور ناانصافی کو دیکھتا ہوں تو گاندھی جی کا عدم تشدد کا پیغام مجھے بہت پرسکون کرتا ہے۔ وہ صرف ماضی کا حصہ نہیں ہیں بلکہ وہ ایک رہنمائی ہیں جو ہمیں مستقبل میں بھی صحیح راستہ دکھاتی ہے۔
عالمی امن اور حقوق انسانی کے علمبردار
گاندھی جی نے عدم تشدد اور سچائی کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ بڑی سے بڑی ناانصافی کا مقابلہ بھی پرامن طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ ان کا پیغام دنیا بھر میں حقوق انسانی اور آزادی کی تحریکوں کے لیے ایک روح رواں ثابت ہوا۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی زندگی سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ کسی بھی ظلم کے سامنے جھکنا نہیں چاہیے، بلکہ پرامن طریقے سے اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ نوبل امن انعام یافتہ شیریں عبادی نے گاندھی جی کی یوم پیدائش کو عالمی یوم عدم تشدد کے طور پر منانے کی تجویز پیش کی تھی، جسے اقوام متحدہ نے منظور کیا اور اب 2 اکتوبر کو ہر سال عالمی یوم عدم تشدد منایا جاتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی میراث کتنی اہم ہے۔
سماجی انصاف اور مساوات کا خواب
گاندھی جی نے اپنی پوری زندگی سماجی انصاف اور مساوات کے لیے جدوجہد کی۔ انہوں نے چھوا چھوت (اچھوت پن) کے خاتمے، خواتین کے حقوق اور مذہبی خیرسگالی پر زور دیا۔ مجھے تو یہ بات آج بھی بہت اہم لگتی ہے کہ وہ تمام انسانوں کو برابر سمجھتے تھے، چاہے ان کی ذات، مذہب یا رنگ کچھ بھی ہو۔ انہوں نے دلتوں اور ہریجنوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور لوگوں کو یہ سمجھایا کہ تمام انسان برابر ہیں۔ ان کی کوششوں نے سماجی انصاف کے حصول کی راہ ہموار کی اور لوگوں کے دلوں میں محبت اور بھائی چارے کا جذبہ پیدا کیا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم آج بھی ان کے ان اصولوں پر عمل کریں تو ہمارا معاشرہ بہت بہتر بن سکتا ہے۔
میرے دل پر گاندھی جی کے گہرے اثرات
جب سے میں نے گاندھی جی کی زندگی کو گہرائی سے پڑھا اور سمجھا ہے، میرے اندر ایک بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے مجھے لگتا تھا کہ شاید طاقت کے بغیر کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا، لیکن گاندھی جی نے مجھے دکھایا کہ اصلی طاقت تو سچائی اور محبت میں ہوتی ہے۔ ان کی سادہ زندگی، ان کے اصولوں پر سختی سے عمل پیرا رہنا، اور ان کی عوامی خدمت کا جذبہ — یہ سب میرے لیے ایک مشعل راہ ہیں۔ مجھے تو یہ سوچ کر اکثر حیرانی ہوتی ہے کہ ایک انسان کیسے اتنی بڑی جدوجہد کو بغیر کسی ذاتی مفاد کے چلا سکتا ہے۔ ان کی شخصیت نے مجھے سکھایا کہ اگر آپ کسی مقصد کے لیے سچے ہیں تو دنیا کی کوئی رکاوٹ آپ کو روک نہیں سکتی۔
مشکلات میں ثابت قدمی کا درس
گاندھی جی کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اگر انسان سچائی اور عدم تشدد پر قائم رہے تو وہ انہیں عبور کر سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی جدوجہد میں لاتعداد چیلنجز کا سامنا کیا، کئی بار جیل گئے، لیکن کبھی اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے۔ مجھے تو جب کبھی اپنی زندگی میں کوئی مشکل آتی ہے تو میں گاندھی جی کی ثابت قدمی کو یاد کرتا ہوں اور مجھے ایک نئی توانائی ملتی ہے۔ ان کی یہ تعلیمات آج بھی اتنی ہی کارآمد ہیں، جب ہم اپنی زندگی میں مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ایسی میراث ہے جو ہمیں ہر حال میں امید کا دامن تھامے رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
آج کے دور میں گاندھی جی کی اہمیت
آج کی دنیا میں، جہاں تشدد، نفرت اور عدم برداشت تیزی سے بڑھ رہا ہے، گاندھی جی کے نظریات پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔ ان کا عدم تشدد، سچائی اور امن کا پیغام ہمیں ایک بہتر اور پرامن دنیا بنانے کا راستہ دکھاتا ہے۔ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ اگر ہم سب گاندھی جی کے اصولوں کا تھوڑا سا بھی اپنی زندگی میں شامل کر لیں تو یہ دنیا بہت خوبصورت بن سکتی ہے۔ ان کی کہانی صرف تاریخ کا ایک حصہ نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی تحریک ہے جو ہمیں مسلسل یہ یاد دلاتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام سے رہ سکتے ہیں۔ یہ دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے کہ ان کی سوچ آج بھی لاکھوں لوگوں کو متاثر کر رہی ہے اور انہیں مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دے رہی ہے۔
글을마치며
دوستو، مہاتما گاندھی کی زندگی کا سفر صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، بلکہ یہ انسانیت کے لیے ایک لازوال سبق ہے۔ ان کی باتیں، ان کے اصول آج بھی ہمیں روشنی دکھاتے ہیں اور سچائی کی راہ پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس بلاگ پوسٹ سے آپ کو گاندھی جی کی شخصیت کو مزید گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملا ہوگا۔ یاد رکھیں، امن اور محبت ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں ایک بہتر کل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
알아두면 쓸모 있는 정보
1. عدم تشدد کی طاقت کو سمجھیں: گاندھی جی کا سب سے اہم سبق عدم تشدد ہے۔ انہوں نے دکھایا کہ پرتشدد ردعمل سے گریز کرتے ہوئے بھی بڑے سے بڑے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ کمزوری نہیں بلکہ ایک انتہائی مضبوط اور اخلاقی موقف ہے جو حالات کو پرامن طریقے سے سنبھالنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں بھی دیکھا ہے کہ جب میں کسی تنازعے میں ٹھنڈے دماغ سے کام لیتا ہوں تو اس کے نتائج زیادہ مثبت نکلتے ہیں۔ یہ صرف سیاسی میدان میں نہیں بلکہ ہماری روزمرہ کی زندگی کے چھوٹے بڑے تعلقات میں بھی اتنا ہی کارآمد ہے۔
2. سچائی پر ثابت قدم رہیں: گاندھی جی کی زندگی سچائی اور دیانت داری کا عملی نمونہ تھی۔ کسی بھی صورتحال میں سچ کا ساتھ دینا نہ صرف آپ کو اندرونی سکون دیتا ہے بلکہ دوسروں کے دلوں میں آپ کے لیے عزت بھی پیدا کرتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں جھوٹ کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے، سچائی پر قائم رہنا ایک انقلابی عمل ہے۔ یہ آپ کے کردار کو مضبوط بناتا ہے اور آپ کو غیر ضروری پریشانیوں سے بچاتا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ سچ بولنے سے بظاہر فوری مشکل آ سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ ہمیشہ فائدہ مند ہوتا ہے۔
3. سادہ طرز زندگی اپنائیں: گاندھی جی کی سادگی ایک فلسفہ تھا جو مادیت پرستی کے خلاف تھا۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ خوشی چیزوں میں نہیں بلکہ اطمینان، قناعت اور روحانیت میں ہے۔ آج کے بھاگ دوڑ اور صارفیت والے دور میں، سادہ زندگی اپنانا ذہنی سکون کا ایک بہترین نسخہ ہے۔ اس سے آپ نہ صرف غیر ضروری خرچوں سے بچتے ہیں بلکہ آپ کی توجہ ان چیزوں پر مرکوز ہوتی ہے جو واقعی اہمیت رکھتی ہیں۔ مجھے تو جب سے میں نے اپنی ضروریات کو محدود کیا ہے، اپنی زندگی میں زیادہ سکون محسوس ہوتا ہے۔
4. دوسروں کی خدمت کا جذبہ پروان چڑھائیں: گاندھی جی نے اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے وقف کر دی۔ ان کا ماننا تھا کہ دوسروں کی مدد کرنا اور سماجی انصاف کے لیے آواز اٹھانا ہی ہماری زندگی کو ایک حقیقی مقصد دیتا ہے۔ یہ صرف دوسروں کو فائدہ نہیں پہنچاتا بلکہ ہمیں بھی اندر سے مضبوط اور مطمئن کرتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری کوششوں سے کسی کی زندگی میں بہتری آئی ہے تو اس سے ملنے والی خوشی بے مثال ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی روایت ہے جسے ہمیں اپنے بچوں میں بھی منتقل کرنا چاہیے۔
5. چھوٹے اقدامات سے بڑی تبدیلی لائیں: گاندھی جی نے چھوٹے چھوٹے اقدامات اور عوامی مزاحمت کے ذریعے بڑی بڑی تحریکیں کھڑی کیں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر بڑی کامیابی کا آغاز چھوٹے قدم سے ہوتا ہے۔ اپنے روزمرہ کے فیصلوں میں مثبت تبدیلیاں لا کر اور اپنے دائرہ کار میں آنے والے مسائل پر کام کر کے آپ بھی اپنی کمیونٹی اور دنیا میں فرق لا سکتے ہیں۔ یہ نہ سوچیں کہ آپ اکیلے کیا کر سکتے ہیں، بلکہ یہ سوچیں کہ آپ کہاں سے شروع کر سکتے ہیں۔ یہ یقیناً آپ کو ایک نئی راہ دکھائے گا اور آپ کو اپنی صلاحیتوں پر یقین دلائے گا۔
중요 사항 정리
گاندھی جی کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے جو ہمیں ہر قدم پر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ان کے ابتدائی سفر، لندن میں تعلیم، اور جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد نے ان کی شخصیت کی بنیاد رکھی۔ یہیں سے انہوں نے ستیہ گرہ کا فلسفہ اپنایا، جو بعد میں ہندوستان کی آزادی کی تحریک کا مرکزی ستون بنا۔ عدم تشدد، سچائی، اور محبت ان کے اصولوں کا جوہر تھے، جن کی بدولت انہوں نے تحریک عدم تعاون، نمک مارچ اور بھارت چھوڑو جیسی بڑی تحریکوں کی قیادت کی۔ ان کی ان تھک کوششوں کے نتیجے میں ہندوستان کو آزادی ملی، اور ان کا پیغام آج بھی عالمی امن، حقوق انسانی، اور سماجی انصاف کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔ آج کے پرتشدد اور عدم برداشت کے ماحول میں، گاندھی جی کے نظریات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم آہنگی، سچائی اور پرامن مزاحمت کے ذریعے دنیا میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ یہ ان کی میراث ہے جو آنے والی نسلوں کو بھی اپنے حقوق کے لیے لڑنے اور ایک بہتر دنیا کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی رہے گی۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: مہاتما گاندھی نے عدم تشدد (نان وائلنس) کا فلسفہ کہاں سے سیکھا اور یہ ان کی تحریک کا مرکزی حصہ کیسے بنا؟
ج: یہ ایک ایسا سوال ہے جو مجھے بھی بہت متجسس کرتا تھا! گاندھی جی نے عدم تشدد کا یہ انوکھا فلسفہ صرف کسی کتاب سے نہیں پڑھا تھا بلکہ اسے اپنی زندگی میں جی کر دکھایا۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار ان کی سوانح عمری پڑھی تو پتا چلا کہ جنوبی افریقہ میں جہاں انہیں رنگ و نسل کی بنیاد پر شدید امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، وہاں سے ہی ان کے اندر اس اصول کی جڑیں گہری ہوئیں۔ ایک بار انہیں فرسٹ کلاس ڈبے سے اتار دیا گیا، اس واقعے نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ ظلم کا مقابلہ ظلم سے نہیں بلکہ سچائی اور محبت سے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ‘ستیہ گرہ’ کا نظریہ پیش کیا، جس کا مطلب تھا ‘سچائی کے لیے ثابت قدم رہنا’۔ یہ محض مظاہرہ نہیں تھا بلکہ ایک روحانی جنگ تھی جہاں لوگ اپنے جسموں کو ڈھال بنا کر اور بغیر کسی ہتھیار کے، صرف اپنے عزم اور حوصلے سے ظالم کا مقابلہ کرتے تھے۔ میں نے خود محسوس کیا ہے کہ اس فلسفے نے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں ہمت اور امید بھر دی اور یہی وجہ تھی کہ برطانوی سلطنت کو بالآخر ان کے سامنے جھکنا پڑا، ورنہ کون سوچ سکتا تھا کہ ایک نہتا شخص اتنی بڑی طاقت کے سامنے کھڑا ہو سکے گا۔ یہ یقیناً ایک ایسا سبق ہے جو آج بھی ہماری زندگی کے ہر شعبے میں کارآمد ہے۔
س: مہاتما گاندھی کی قیادت میں برصغیر کی آزادی کی سب سے اہم تحریکیں کون سی تھیں اور انہوں نے کیا اثر ڈالا؟
ج: مہاتما گاندھی کی قیادت میں آزادی کی جنگ کوئی ایک معرکہ نہیں بلکہ کئی بڑی تحریکوں کا مجموعہ تھی۔ میں جب بھی ان تحریکوں کے بارے میں پڑھتی ہوں تو ایک الگ ہی جوش محسوس کرتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی سب سے نمایاں تحریکوں میں ‘عدم تعاون تحریک’ (نان کوآپریشن موومنٹ) تھی جو 1920 میں شروع ہوئی۔ اس میں گاندھی جی نے لوگوں سے کہا کہ وہ انگریزوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کریں – سرکاری نوکریاں چھوڑ دیں، اسکولوں کا بائیکاٹ کریں، اور غیر ملکی مصنوعات کا استعمال بند کر دیں۔ پھر 1930 میں ‘نمک مارچ’ یا ‘ساوتری ستیہ گرہ’ (سالٹ مارچ) ایک ایسی تحریک تھی جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ گاندھی جی نے اپنے پیروکاروں کے ساتھ سمندر تک پیدل سفر کیا اور خود نمک بنا کر انگریزوں کے نمک کے قانون کو توڑا، یہ ایک علامتی احتجاج تھا جس نے انگریزوں کی معاشی لوٹ مار کو بے نقاب کیا۔ اور سب سے آخر میں ‘بھارت چھوڑو تحریک’ (کوئٹ انڈیا موومنٹ) جو 1942 میں شروع ہوئی، اس میں گاندھی جی نے ‘کرو یا مرو’ کا نعرہ دیا، جس نے لوگوں کے اندر آزادی کی آخری جنگ کا عزم بھر دیا۔ ان تحریکوں نے نہ صرف انگریزوں پر شدید دباؤ ڈالا بلکہ ہندوستانی عوام کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور انہیں اپنی طاقت کا احساس دلایا، جو بالآخر 1947 میں آزادی کا باعث بنا۔ یہ سب گاندھی جی کی بصیرت اور عوام کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت کا نتیجہ تھا۔
س: آج کی جدید دنیا میں مہاتما گاندھی کے فلسفے اور تعلیمات کی کیا اہمیت ہے، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے؟
ج: یہ سوال آج کے دور میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ کیا گاندھی جی کے اصول آج بھی کارآمد ہیں؟ اور میرا جواب ہمیشہ ہاں میں ہوتا ہے۔ میرے خیال میں آج کی دنیا جو تشدد، نفرت اور تیزی سے بدلتی ہوئی اقدار کا شکار ہے، اس میں گاندھی جی کے عدم تشدد، سچائی اور سادگی کے اصول پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہیں۔ نوجوانوں کے لیے ان کی تعلیمات بہت اہم ہیں کیونکہ وہ ہمیں سکھاتی ہیں کہ کیسے پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لیے لڑا جائے، کیسے ماحول کا خیال رکھا جائے اور کیسے لالچ اور ہوس سے بچا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ “زمین ہر انسان کی ضرورت پوری کر سکتی ہے لیکن کسی ایک انسان کی لالچ پوری نہیں کر سکتی۔” یہ آج ماحولیاتی مسائل اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے تناظر میں کتنا سچ لگتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب لوگ اپنے اندر سچائی اور انصاف کا جذبہ پیدا کر لیتے ہیں تو انہیں کسی بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں رہتی۔ گاندھی جی نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ تبدیلی کی شروعات ہمیشہ خود سے کرنی چاہیے۔ اگر ہم خود ایماندار، پرامن اور بااصول ہوں گے تو ہمارا معاشرہ بھی ایسا ہی بنے گا۔ ان کی زندگی ایک ایسا چراغ ہے جو ہمیں آج بھی تاریکی میں راستہ دکھاتا ہے۔






